Bani-e-Israel

قرآن مجید میں ’’بنی اسرائیل‘‘ کاذکر چالیس (40) مرتبہ آیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
حضرت یعقوبuجو حضرت اسحاقuکے بیٹے اور حضرت ابراہیم uکے پوتے تھے، ان کا نام عبرانی میں ’’اسرائیل‘‘ ہے۔ یہ نام ’’اِسرا‘‘اور’’ایل‘‘ دو لفظوں سے مرکب ہے جس کا عربی ترجمہ ’’عبداللہ‘‘ ہے۔ حضرت ابراہیم u کی جو نسل حضرت یعقوب بن اسحاق i سے چلی، وہ اسی وجہ سے ’’بنو اسرائیل‘‘ کہلاتی ہے اور ا ن کے بارہ بیٹے تھے۔ یعقوبuکے بڑے بیٹے کا نام یہودا تھا، اس کی نسبت سے بنی اسرائیل کو یہود بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی رشدو ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے کئی انبیاء کرام o بھیجے ، اور ان پر اللہ کی طرح طرح کی نعمتیں نازل ہوئیں، جیسے من و سلویٰ وغیرہ، تاہم اس قوم نے ان کی قدر نہ کی۔ کئی انبیاء کا تو انکار کیا ، کئی کی نبوت تو قبول کی، مگر ان کی نافرمانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے انبیاءo کو قتل بھی کیا۔ ان کی طرف بھیجے جانے والے مشہور انبیاء میں حضرت یوسفu، حضرت موسیٰu، حضرت ہارونu، حضرت ایوبu، حضرت داؤدu، حضرت سلیمانu، حضرت الیاسu، حضرت الیسعu، حضرت یونسu، حضرت عزیرu، حضرت زکریاu، حضرت یحییٰu اور حضرت عیسیٰu شامل ہیں۔