FREE DELIVERY PAKISTAN

QURESH

قرآن مجید میں ’’قریش‘‘ کاذکر ایک مرتبہ آیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
’’قُرَیْش‘‘ عرب کا ایک مشہور اور ذی عزت قبیلہ تھا، جو نضر بن کنانہ کی اولاد سے ہے۔ حضرت محمدa اسی قبیلے کے ایک خاندان بنوہاشم میں سے ہیں اور نضربن کنانہ کی تیرھویں پشت میں سے ہیں، جیسا کہ کتابوں میں آپ (a) کے نسب نا مہ سے ظاہر ہے: ’’محمد (a) بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ۔‘‘
اہلِ لغت کہتے ہیں کہ ’’قُرَیْش‘‘ تصغیر ہے ’’قَرْش‘‘ کی، جس کے معنی سمندر کے ایک طاقت ور جانور کے ہیں، چونکہ یہ قبیلہ بہادر تھا، اس وجہ سے اس کا یہ نام معروف ہوا۔ ’’قَرْش‘‘ کے معنی جمع کرنے کے بھی ہیں، چونکہ آپa کے جدِ امجد قصی بن کلاب نے متفرق قوموں کو مکہ میں جمع کیا تھا، اس وجہ سے ’’قُرَیْش‘‘ کو ’’قُرَیْش‘‘ کہا گیا، ایک قول یہ بھی ہے کہ ’’قَرْش‘‘ کے معنی کسب کے ہیں اور یہ لوگ تجارت پیشہ تھے، اس وجہ سے ’’قَرْش‘‘ کہلائے، اسی طرح اور بھی بعض معانی لفظ قرش کے لغت میں ملتے ہیں، اور ان معانی سے قریش کی وجہ تسمیہ ظاہر ہوتی ہے۔
حضرت محمد a کی پیدائش سے قبل بھی عرب کے تمام قبیلوں میں خاندانِ قریش کو خاص امتیاز حاصل تھا۔ خانہ کعبہ جو تمام عرب کا دینی مرکز تھا، اس کے متولی یہی قریش تھے اور مکہ مکرمہ کی ریاست بھی انہی سے متعلق تھی۔ قبیلہ قریش کی بڑی بڑی شاخیں یہ ہیں:( (1 بنو ہاشم،(2)بنو امیہ،(3)بنو نوفل، ( (4 بنو عبدالدار، ( (5 بنو اسد،( (6بنو تمیم،(7) بنو مخزوم،(8) بنو عدی،(9) بنو عبد مناف،(10) بنو سہم، ان کے علاوہ دیگر شاخیں بھی ہیں۔