FREE DELIVERY PAKISTAN & 5 Years Warranty

Hazrat Yaqub (P.B.U.H)

 

قرآن مجید میں حضرت یعقوب علیہ السلام کا ذکر مبارک سولہ (16) مرتبہ آیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

حضرت یعقوب علیہ السلام ‘ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے، ان کی والدہ ’’ربقہ‘‘ حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے بھتیجے بیتوئیل کی بیٹی تھیں، یہ اپنی والد ہ کے چہیتے اور لاڈلے تھے، ان کا نام عبرانی میں’’اسرائیل‘‘ ہے، یہ اسرا اورایل دو لفظوں سے مرکب ہے جس کا عربی ترجمہ عبداللہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جو نسل حضرت اسحاق علیہ السلام ہے، وہ اسی وجہ سے وہ ’’بنو اسرائیل‘‘ کہلاتی ہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام اپنی والدہ کے کہنے پر’’ بئر سبع‘‘( فلسطین) سے ’’فدان آرام‘‘ (شمالی عراق) چلے گئے، وہاں انہوں نے سات سال اپنے ماموں’’لابان‘‘ کی بکریاں چرائیں تو ماموں نے اپنی بڑی بیٹی ’’لیاہ ‘‘سے ان کا نکاح کردیا، مزید سات سال بکریاں چرانے کی شرط پر ماموں نے اپنی دوسری بیٹی ’’راحیل‘‘ کا نکاح بھی ان سے کردیا (کیوں کہ اس شریعت میں دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا ممنوع نہ تھا)، اور پھر لیاہ کی خانہ زاد باندی ’’زِلفا‘‘ اور راحیل کی خانہ زاد ’’بلہا‘‘ بھی ان کی زوجیت کے رشتہ سے منسلک ہوگئیں، اور ان سب سے اولاد ہوئی ، ان کی اولاد کی تفصیل یہ ہے:

لیاہ بنت لابان سے :1:- روبن، 2:- شمعون ،3:- لاوی ،4:- یہودا ،5:- اشکار، 6:-زبولون، اور راحیل بنت لابان سے : یوسف اور بنیامین، اور بلہا سے دان اور نفتالی ، اور زلفا سے جاد اور آشر۔

 بنیامین کے علاوہ ان کی سب اولاد اپنے ماموں کے یہاں ہی پیدا ہوئی ، اور یعقوب علیہ السلام بیس سال وہاں رہ کر پھر اپنے دادا کے دار الہجرت فلسطین کے علاقے حبرون میں آگئے، اور یہا ں فلسطین پہنچنے کے بعد ان کا بیٹا بنیامین پیداہوا۔

 حضرت یعقوب علیہ السلام اللہ کے برگزیرہ پیغمبر تھے اور کنعانیوں کی ہدایت کے لیے مبعوث ہوئی تھے، اور کنعان (فلسطین) میں انہوں نے عمر کا بڑا حصہ گزارا اور پھر بعد میں جب ا ن کے بیٹے یوسفعلیہ السلام مصر کے اقتدار پر آئے تو اس وقت انہوں نے فلسطین سے مصر کی طرف ہجرت کرلی۔ یعقوبعلیہ السلام مصر میں ستر برس رہے، ان کی عمر 147 برس ہوئی، انہوں نے وفات سے پہلے یوسف علیہ السلام کو وصیت کی کہ مجھے مصر میں دفن نہ کرنا، بلکہ کنعان میں میرے باپ دادا کے پاس دفن کرنا، چنانچہ جب یعقوب علیہ السلام کی وفات ہوئی تو ان کے جسدِ خاکی کو اہلِ مصر کے طریقہ پر خوشبوؤں اور مسالوں سے محفوظ کرلیا گیا ، پھر یوسف علیہ السلام ، ان کے بھائی اور مصر کے مشایخ آپ کے جسدِ خاکی کو کنعان لے گئے اور وہاں حبرون میں ’’مکفیلہ‘‘ کے غار میں آپ کی تدفین کردی۔